jamaateislamihind.org
has updated New stories
while you were away from this screen
Click here to refresh & close
جماعت اسلامی ہندنے لاء کمیشن کے بیان کا خیر مقدم کیا

Posted on 02 September 2018 by Admin_markaz

 

 

نئی دہلی۔ یکم ستمبر: جماعت اسلامی ہند لا کمیشن کے بیان کا خیر مقدم کرتی ہے کہ یونیفارم سول کوڈ کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی مطلوبہ۔ جماعت اسلامی ہند کے ماہانہ پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے جماعت کے سکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے کہا کہ ہم لاء کمیشن کے اس بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ یونیفارم سول کوڈ کی نہ تو ضرورت ہے اور نہ ہی مطلوبہ، لیکن پینل کے اس مشورہ کی حمایت نہیں کرتے ہیں کہ پرسنل لاء میں تبدیلی اور اصلاحات کی ضرورت ہے۔

 

جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر جناب نصرت علی نے پریس کے نمائندہ کوکیرلہ کے سیلابی علاقے کے اپنے دورہ کا تاثر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کیرلا میں گزشتہ دنوں سیلابی بارش سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ مقامات پر بھی ریلف کا کام جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جماعت کے مختلف ذیلی ادارے پوری مستعدی سے امدادی کاموں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔خاص طور پر Ideal Relief Wing کی کارکردگی قابلِ تعریف اور مستحسن ہے۔جماعت کا امدادی کام ان علاقوں میں بھی ہے جہاں حکومت کی مشینری پہنچنے سے قاصر رہی۔مثال کے طور پر بعض آدی باسی بستیاں وغیرہ۔امدای کام منظم اور منصوبہ بند طریقے سے انجام پا رہا ہے ۔ ارناکلم، پنتھالم، پلکڑ اور ملپ پورم میں جماعت کے ذریعہ چلائے جارہے ریلیف کیمپس میں ہزاروں کی تعداد میں سیلاب کے متاثرین پناہ گزیں ہیں۔ان کے لئے ضروری اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔امدادی سامان کو مرکزی سطح پر جمع اور تقسیم کیا جا رہاہے ۔ ریلیف پہنچانے کے لیے ڈسٹریس ریلف سیل کے نام سے کچھ یونیٹس کی تشکیل کی گئی ہے ،جو ۲۴ گھنٹے ضلعی اور ریاستی سطح پرکام کر رہی ہیں۔ اشیاء اور ریلیف کارکان کی فراہمی کا کام ڈسٹریس ریلف سیل کے ذمے دیا گیا ہے۔باز آبادکاری کاکام جماعت اسلامی ہند دو سطح پر انجام دے رہی ہے۔ہنگامی امداد، جس میں گھرو ں کی صفائی ،مرمت اور ضروری اشیاء کی فراہمی ہے۔یہ کام آئی آر ڈبلیو اور پپلس فاؤنڈیشن کے کارکنان انجام دے رہے ہیں۔ مستقبل کے کام ، جن میں سیلابسے متاثر افراد کے گھروں کی تعمیر نو ،مویشی وغیرہ کی فراہمی شامل ہے ۔اس کے تحت ان لوگوں کو مددکی جا رہی ہے جنہیں حکومت سے امداد نہیں ملی ہے۔جماعت اسلامی ہند کی مرکزی قیادت نے کیرلا کا دورہ۲۳، ۲۴ ؍اگست کو کیا تھا وفد میں جناب نصرت علی کے علاوہ جماعت کے دوسرے نائب امیر جناب ٹی ؑ ارف علی بھی شامل تھے۔ انھوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی ہند نے ملک و ملت کے تمام باشندوں سے اپیل کی ہے کہ کیرلا کے سیلاب متاثرین کے لیے ریلیف کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اس مصیبت کی گھڑی میں ان کا تعاون کریں ۔جماعت نے امداد کرنے والی NGOs اور مرکزی حکومت سے بھی گزارش کی ہے کہ وہ کیرلا کے لئے زیادہ سے زیادہ تعاون اور مالی مدد کریں اور اس کو ملکی آفت قرار دے ۔ جناب نصرت علی نے کہا کہ ہندوستان کو چاہیے کہ کیرلہ فلڈ ریلف کے لیے یو اے ای سے آنے والے امداد کو قبول کرے۔ ماضی میں ہندوستان نے بھی دیگر ممالک کو ضرورت کے وقت امداد بھیجا اور قبول کیا ہے۔

 

کانفرنس کے ابتدا میں جماعت کے سکریٹری جنرل محمد سلیم انجینئر نے میڈیا پرسنس کو بریف کرتے ہوئے کہا کہ مند سور میں زنا بالجبر کے مجرموں کو 59 دنوں میں تمام قانونی کارروائی مکمل کرتے ہوئے سزائے موت سنانے کا جماعت اسلامی ہند خیر مقدم کرتی ہے۔ اسپیشل Posco ججمحترمہ نشا گپتا نے اس معاملے میں جس ہمت و حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے ۔جماعت حکومت ہند کو یہ بات یاد دلانا چاہتی ہے کہ کٹھوا،اناؤ،ہریانہ اور دہلی وغیرہ میں بھی زنا بالجبر کے واقعات ہوئے ہیں ۔ ان کے مجرموں کو بھی اس قانون کے تحت سزائے موت سنائی جانی چاہیے۔یہ قانون ہجومی تشدّداور گجرات میں 2002 ء کے فسادیوں پر بھی نافذ کرنا چاہئے ۔حکومت ہند اس بات کے لئے جواب دہ ہے کہ ایسا کیوں نہیں ہو رہا ہے؟ سیکریٹری جنرل نے کچھ طاقتوں کے ذریعہ ترکی کی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

 

برائے اشاعت :  جاری کردہ

شعبہ میڈیا ، جماعت اسلامی ہند

Comments are closed.

Eid-ul-Adha 2018 || Khutba

Khutba e Juma

Current Affairs || The Muslim Ummah’s System of Training

Monthly Press Meet || November 2018

VISIT OUR OTHER WEBSITES