jamaateislamihind.org
has updated New stories
while you were away from this screen
Click here to refresh & close
جماعت نے ملک بھر میں لاکھوں خاندان کی مدد کی

Posted on 16 July 2020 by Admin_markaz

 

مارچ کے آخری ہفتے میں ملک بھر میں اچانک لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے سبب کروڑوں افراد جہاں تھے،وہیں پھنس گئے۔ یہ صورتحال خاص طور پر غریب اور مزدور طبقہ کے لئے بڑی دشواری کا سبب بن گئی۔ وہ اپنے ٹھکانوں میں سمٹ گئے، روزگار کا دروازہ بند ہوگیا اور فاقہ کشی کی نوبت آگئی۔ اس پریشان کن صورت حال کو دیکھتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کا شعبہ خدمت خلق جو کہ پہلے سے ہی شمال مشرقی دہلی میں فساد متاثرین میں بڑے پیمانے پر راحت رسانی کا کام انجام دے رہا تھا، اپنی سرگرمیوں کا دائرہ وسیع کیا اور پورے ملک میں راحت رسانی کا جال پھیلادیا۔یہی نہیں جہاں ممکن ہوسکا وہاں جماعت اسلامی ہندنے اپنے ماتحت چلنے والے اسکول، مدارس اور کالجوں کی عمارتوں کو کورونا متاثرین کے لئے ریاستی حکومت کو دینے کی رضامندی دی، جس سے سینکروں متاثرین نے استفادہ کیا۔ چنانچہ کیرالہ کے امیر ایم آئی عبد العزیز کے مطابق ’جماعت اسلامی ہند کے ماتحت چلنے والے اسپتالوں اور دیگر اداروں کو کورونا متاثرین کے لئے استعمال کرنے پر انہوں نے آمادگی ظاہر کی اور کوزیکوڈ میں ایک 300 بیڈ والا ملٹی اسپیسلیٹی اسپتال ”سانتھی“ جوکہ تنظیم کے اشتراک سے ایک ٹرسٹ کے ذریعہ چلایا جاتاہے،کے انتظاما ت کو متاثرین کی دیکھ بھال کے لئے ریاستی حکومت کے زیر انتظام دینے پر رضامندی دی ‘۔ ان کے مطابق’تنظیم کیرالہ بھر میں پانچ اسپتالوں میں 1000 بیڈس، 90 سے زیادہ اسکولوں کی عمارتیں، 25 کالج کی عمارتیں اور جماعت سے وابستہ 400 مدرسوں کو استعمال میں لانے پر رضامندی کا اظہار کیا‘۔ اسی طرح ریاستی حکومت کے آن لائن پورٹل ”سنا دھام“ میں جماعت کے تمام کارکنان کے نام کا اندراج کردیا گیاہے تاکہ وقت پر ان کی خدمات لی جاسکیں۔ جماعت اسلامی نے ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی مقامی سرکاری محکمے کو کام میں تیزی لانے کے لئے افرادی قوت فراہم کرکے انہیں تعاون دیا۔ انسانی ہمدردی پر مبنی خدمت خلق کا یہ کام ملک بھر میں انجام دیا گیا اور جہاں فوڈ کٹس کی ضرورت پڑی،وہاں فوڈ کٹس، جہاں پکے ہوئے کھانے کی ضرورت ہوئی وہاں پکا ہوا کھانا تقسیم کرنے کے علاوہ مالی امداد، سنیٹائزر اورفیس ماسک بڑی تعداد میں ان متاثرین تک پہنچائے گئے۔کسی بھی خاندان میں افراد خانہ کی تعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے انہیں فوڈ کٹس فراہم کیا گیا۔ مثلاً راجدھانی دہلی میں جماعت اسلامی نے ہر غریب خاندان کو ایک ہزار روپے کی قیمت کا راشن کٹ فراہم کیا۔اس کٹ میں گیہوں کا آٹا، چاول، دالین، چینی اور دیگر سامان ہوتے ہیں۔ یہ تمام کام جماعت ریاست کے مختلف علاقوں میں قائم اپنے مراکز کے ذریعہ انجام دیتی ہے اور تقریباً یہی طریقہ کار ملک کی ان تمام ریاستوں میں رائج ہے جہاں جماعت راحت رسانی کا کام انجام دے رہی ہے۔

 

لاک ڈاؤن کے دوران اور اس کے بعد تک جماعت اسلامی ہند نے اپنے ذیلی اور ہم مزاج اداروں کے تعاون اور اشتراک سے ملک بھر کی 25 ریاستوں میں ضرورت مندوں اور مستحقین کے درمیان بڑے پیمانے پر امدادی کام انجام دیا۔ یہ امداد 30 جون 2020 تک 13,54,061 مستحق خاندانوں تک پہنچائی گئی۔ ان خاندانوں میں 523,205کو فوڈ کٹس، 5,01,456 کو پکا ہوا کھانا، 35,668 کومالی امداد، 95,240 کو فیس ماسک اور 12,141 کو سینیٹائزر فراہم کیا۔ اس کے علاوہ 207, 831کو دیگر امداد دی گئی۔ راحت رسانی کے طریقہ کار، افادیت اور کارکنوں کی جانفشانی پر بات کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری برائے خدمت خلق جناب محمد احمد نے بتایا کہ مختلف ریاستوں میں ریلیف سرگرمیوں کا فائدہ بلا امتیاز مذہب و ملت سب کو پہنچایا جارہا ہے۔ خاص طورپر پھنسے ہوئے افراد اور پسماندہ طبقات کا ترجیحاً خیال رکھا جاتاہے۔ رمضان کے دوران متعدد مقامات پر رمضان کٹ گھروں میں پہنچائی گئی۔ چونکہ مہاراشٹر کورونا سے سب سے زیادہ متاثر رہا ہے۔لہٰذا راحت رسانی کے کام بھی سب سے زیادہ اسی ریاست میں انجام دیئے گئے۔یہاں 3,31,064 خاندانوں کو امداد پہنچائی گئی جبکہ تلنگانہ میں 1,62,419 ، کرناٹک میں 1,07,466، مشرقی یو پی میں 87,125 ، تمل ناڈو میں 1,92,471 ،کیرلہ میں 86,486 ، مغربی بنگال میں 60,860 ، مدھیہ پردیش میں 72,001 ، آندھرا پردیش میں 22,281 ، گجرات میں 44,968 ، دہلی میں 39,893 ، راجستھان میں 38,626 ، بہار میں 36,624 ، مغربی یو پی میں 36,947 ، جھارکھنڈ میں 13,220لاکھ ، گوا میں 7,745 ، اترا کھنڈ میں 7,461، ہریانہ میں 1,174 ، چھتیس گڑھ میں 1,810، انڈومان میں 552 ، پنجاب میں 1,050 ، آسام جنوب میں 993 ، آسام شمال میں 612 ، اڑیسہ میں 152 اور منی پور میں 61 مستحق خاندانوں کو مدد پہنائی گئی۔ جناب محمد احمد نے بتایا کہ راحت رسانی کا یہ کام ہنوز جاری ہے اور جب تک ملک سے لاک ڈاؤن کا سلسلہ ختم نہیں ہوتا، ہم اپنی امدادی خدمات جاری رکھیں گے اور ضرورتمندوں اور مستحقین تک ہمارے کارکنان پہنچتے رہیں گے

Comments are closed.

Resolutions passed by JIH’s Central Advisory Council in its recent session

Weekly Ijtema || Our religious responsibilities, post COVID-lockdown’ by Dr. Raziul Islam Nadvi

Khutba-e-Juma || FAITH COLLECTIVISM STRUGGLE – THE FOUNDATION FOR GLORY || Malik Moatasim Khan

Corona Waba aur Khidmat-e-Khalq || Mohammad Ahmed

Twitter Handle

Facebook Page

VISIT OTHER USEFUL WEBSITES